Skip to content

دیگر افراد کو بتانا

کم اینگ آؤٹ میں خود آگاہی کے بعد اگلا قدم دوسرے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہوتا ہےـ “بہت سے لوگ اس عمل سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ اس کے نتیجے میں ملنے والے تعصب اور طنز و تشنیع سے ڈرتے ہیں ـ لہذا کچھ لوگ اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہیں ، کچھ ٘مخصوص حالات میں سامنے آتے ہیں اور کچھ لوگ بہت ہی کھلے طریقے سے اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں ـ ۱

 

انسان کم اینگ آؤٹ کے عمل سے گزرنا ہے یا نہیں اور کیا وہ کسی شخص کو اپنے بارے میں بتائے گا، اس فیصلے کا پورا اختیار صرف اس انسان کو ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور گھر والوں پر کتنا اعتماد کرتا ہےـ اس فیصلے کا دار و مدار اس پر بھی ہے کہ اس انسان کی اہمیت اس فرد کی زندگی میں کتنی ہےـ کچھ لوگ اپنے والدین کے سامن اپنی حقیقت پیش کر دیتے ہیں، یہ سہچے سمجھے بغیر کہ ان کو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کافی مشکل در پیش آئے گی ـ اس کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے لیے ان کے والدین کی مرکزی حیثیت ہوتی ہےـ بعض لوگ اپنے والدین کی بجائے اپنے دوستوں کے سامنے اپنی حقیقت بیان کرتے ہیں کیونکہ وہ خود کو اپنے والدین کو اس تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں جو کہ ان کو سچائی جان کر ہوگی ـ تاہم یہ بات روزِ روشن کی برح عیاں ہے کہ کم اینگ آؤٹ کا یمل خوفناک اور مشکل ہوتا ہے جس میں انسان کو جسمانی اور جذباتی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ـ

 

کم اینگ آؤٹ کا عمل کسی بھی گے، لیزبیئن اور دو جنس فرد کے لیے اہم نفسیاتی عمل ہےـ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اپنے جنسی میلان کے متعلق مثبت سوچ رکھنے اور اسے اپنی زندگیوں میں شامل کرنے والے افراد کی ذہنی اور جسمانی صحت بہت بہتر ہوتی ہے اسی سلسلے میں اکثر لوگ دیگر افراد کو اپنی جنسی شناخت سے آگاہ کرتے ہین اور بعض اوقات گے کمیونٹی کا بھی حصہ بن کر اپنی ذات کی تکمیل کرتے ہیں ـ اپنے جنسی میلان کا متعلق دیگر افراد سے بات کرنے سے سوشل سپورٹ میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ ذہنی اور نفسیاتی صحت کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہےـ مخالف جنس پرستوں کی طرح، لیزبیئنز، گیز اور دو جنس افراد اپنی زندگیوں کے واقعات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو اپنے گھر والوں، دوستوں اور جاننے والوں سے مدد مل سکتی ہےـ ۲